ٹرمپ کی ایران کو للکار

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کے قتل کو ،جنگ روکنے، کے لیے ضرورت قرار دیا ہے ۔

صدر ٹرمپ نے مختصر پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایران کے حوالے سے ایسے تمام ضروری اقدامات کرنے کے لیے تیار ہیں ۔ادھر ایران نے بغداد میں امریکی حملے کے نتیجے میں ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کی ہلاکت جو ایک واضح دہشت گردکاروائی قرار دیا تھا ۔

امریکی صدر نے کہا کہ ہمارے اقدامات جنگ شروع کرنے کے لیے نہیں ہوتے ۔انھوں نے جنرل قاسم سلیمانی کو ذہنی بیمار شخص قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے معصوم لوگوں کو ہلاک کیا اور ان کے حملوں سے نئی دہلی سے لندن تک لوگ متاثر ہوئے ۔صدر ٹرمپ نے جنرل سلیمانی کو عام امریکی عام شہریوں اور سپاہیوں کی موت کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے دہشت گرد کہا

ادھر جنرل قاسم سلیمانی کو ڈرون حملے میں ہلاک کرنے کے بعد امریکی سیکرٹری خارجہ مائیک پومپیو نے مختلف ملکوں کے سربراہوں سے رابطہ کیا ہے جبکہ پاکستان میں فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کو فون کر کے بتایا ہے کہ ایران خطےکو عدم استحکام کا شکار کر رہا ہے۔

مایئک پومپیو نے افغان صدر اشرف غنی ،سعودی ولی عہد محمد بن سلمان ،روس کے وزیرخارجہ سمیت کئ اہم ملکوں میں حکام سے رابطہ کر کے جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کو ضروری عمل قرار دیا ۔

پاکستان کی فوج کے ترجمان کے مطابق جنرل باجوہ نے امریکی وزیر خارجہ سےکہا کہ وہ افغان امن عمل کی کامیابی پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہوئے ہیں ۔

امریکہ نے جمعےکو علی الصبح عراق کے دارحکومت بغداد میں ایک فضائی حملے میں ایران کے سب سے طاقتور فوجی کمانڈر قاسم سلیمانی کو ایران کے حمایت یافتہ ملیشیا رہنماوَں کے ہمراہ ہلاک کردیا ۔اس واقعے کے بعد صورتحال نہایت کشیدہ ہوگئی ہے۔

Facebook Comments

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here