SC accept Justice Faiz Issa's review petition
SC accept Justice Faiz Issa's review petition

سپریم کورٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسٰی اور ان کی اہلیہ سرینا عیسی کو بڑا ریلیف دیتے ہوئے نظر ثانی درخواستیں منظور کرلیں جس کے نتیجے میں ان کے خلاف ہونے والی ایف بی آر کی کارروائی ، تحقیقات اور رپورٹ کالعدم قرار دے دی گئی ۔

جسٹس عمر عطاء بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 10 رکنی بینچ نے جسٹس قاضی فائز عیسٰی نظر ثانی کیس کی سماعت کی ۔ وفاقی حکومت کے وکیل ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ عدالت کیس ایف بی آر کو نہ بھجواتی تو وفاقی حکومت نظر ثانی اپیل دائر کرتی ۔

حکومت کیس ایف بی آر کو بھجوانے کا دفاع کرنے میں حق بجانب ہے، جسٹس قاضی فائز عیسٰی کیس میں عدالتی فیصلے پر عملدرآمد ہو چکا ہے، عملدرآمد کے بعد فیصلہ واپس نہیں لیا جا سکتا ، سپریم جوڈیشل کونسل کومواد کا جائزہ لینے سے نہیں روکا جا سکتا اور آرٹیکل 211 کے تحت سپریم جوڈیشل کونسل کی کاروائی چیلنج نہیں ہو سکتی ، سپریم کورٹ صرف غیر معمولی حالات میں جوڈیشل کونسل میں مداخلت کر سکتی ہے ۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ معزز جج اور عدالتی ساکھ کا سوال ہے، ادارے کی ساکھ کا تقاضا ہے کہ اس مسئلے کو حل کیا جائے، جسٹس فائز عیسٰی کہتے ہیں وہ اہلیہ کے اثاثوں کے جوابدہ نہیں ۔ اس پر سرینا عیسیٰ نے کہا کہ جسٹس عمر عطا بندیال اور جسٹس منیب اختر احتساب کے لیے بہت کوشاں ہیں ، دونوں ججز اپنے اور اپنی بیگمات کے اثاثے پبلک کریں ۔

عدالت نے جسٹس فائز کیس میں نظر ثانی درخواستیں 6-4 کی اکثریت سے منظور کر لیں جس کے نتیجے میں سپریم کورٹ کے حکم کے تناظر میں ہونے والی ایف بی آر کی کارروائی ، تحقیقات اور رپورٹ کالعدم ہوگئی ۔

سپریم کورٹ کے دس رکنی بینچ میں سے 6 ججز نے سرینا عیسی کی نظر ثانی درخواست قبول کر لی اور 4 نے مسترد کی جبکہ جسٹس فائز کی نظر ثانی درخواست پانچ ججز نے منظور اور 5 نے مسترد کی ۔

6 ججز نے سرینا عیسی کی نظر ثانی درخواست منظور کرنے کا فیصلہ سنایا جبکہ 4 ججز جسٹس عمرعطا بندیال ، جسٹس سجاد علی شاہ، جسٹس منیب اختر اور جسٹس قاضی امین نے فیصلے سے اختلاف کیا۔ جسٹس یحییٰ خان آفریدی نے جسٹس فائز کی درخواست منظور نہیں کی البتہ سرینا عیسی کی درخواست منظور کرلی ۔

Facebook Comments

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here